Title

Click here to edit subtitle

Blogs/Videos Post New Entry

view:  full / summary

Adam Ka Janat Se Zamin Tak Ka Safar

Posted by [email protected] on November 11, 2015 at 1:25 AM Comments comments (0)

آدم کاجنت سے زمیں تک کا سفر....

تحریر: رضوان کیانی..

آدم گھر کو لوٹے تو حکم عدولی کی سزا ملی اور ترقی یافتہ سماج (جنت) میں بسنے کاحق ان سے چھن چکا تھا, کیوں کہ فطرت انہیں اور ان کی نسل کو ایک نئی تجربہ گاہ دے کر اس کو اس ترقی یافتہ سماج کا عملی نمونہ بنواناچاہتی تھی.جس کے لیے اس نے حضرت انسان کو کچھ بنیادی اصول کتابی صورت میں دیے.جنہیں الہامی کتب کہا جاتا ہےاگر ہم قران اور تمام الہامی کہلائی جانے والی کتابوں کا بغور مطالعہ کریں جو کہ عقل کے آئینے میں ہو, (کیونکہ خدا بار بار ہر جگہ قران کے اندر کہتا ہے بے شک نشانی ہے عقل والوں کے لیے, بے شک اس میں ہدایت ہے عقل والوں کے لیے, اسے تو عقل والے ہی سمجھ سکتے ہیں, تو یہ چیز واضع ہو جاتی ہے کہ قران سائنسی اور تحقیقی نقطہ نظر کی حامی ایک کتاب ہے. اور کسی دوسرے کی کہی سمجھائی گئی باتوں کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ .....بے شک میں نے تمہارے لیے اسے آسان کر دیا ہے, تا کہ تم سمجھو ..تو یہاں قران اس بات کا واضع انکار کر رہا ہے کہ جو شخص تمہیں قران کے نظریات کو عقلی طور پر سمجھنے سے روکے وہ جاہل ہے چاہے وہ کتنا بڑا عالم, مفتی, پنڈت بنا پھرتا ہو.. اسی طرح تمام الہامی کتابوں کو عقل کی بھٹی سے گزار کر ہی سمجھا اور معاشرے کی بھلائی کے لیے انکا مقصد نزول پورا کیا جا سکتا ہے. مگر بد قسمتی سے ہمارے معاشروں میں دولت عربیہ کی 1300 سال پہلے عثمانی خلافت کے بعد قران پر ایک گروہ کا قبضہ ہو گیا جو آج تک قران پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے اور ہمیں اسطرح سمجھنے کی تلقین کرتا ہے جس طرح وہ سمجھ رہا ہے تا کہ اسکی اور اسکے ظالم آقاؤں کا نظام قائم رہے مگر ہم اس گروہ کے باغی ہیں.الہامی کتابوں کو دیکھا جائےتو زبور سے لے کر قران تک ایک ہی چیز سمجھ آتی ہے کہ یہ مظلوم کی حامی اور نظام ظلم کی منکر ہیں. قران کی پہلی سورہ سے لے کر آخری سورہ تک ,... نماز قائم کرو اور زکوہ دو() ہر جگہ یہ الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں. مطلب یہ کہ تمہاری عبادت دراصل عبادت ہی نہیں ہے جب تک تم عدل کا نظام قائم نہ کرلو. پھر انتیسواں پارہ آیت 33.34 میں بالکل واضع کہہ دیا کہ ...ہم نے انہیں دہکتی آگ میں پھینک دیا کیونکہ وہ ایمان لاتے تھے مگر مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے() یعنی ہمارا ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا جب تک ہم غریبوں اور مسکینوں کو کھانا دینے والا نظام قائم نہ کر لیں....پھر پوری سورہ الماعون..یتیموں کی مدد, بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ظلم کے خاتمے والے نظام کی حمایت کا ببانگ دہل اقرارکرتی اور ظالم کوللکارتی نظرآتی ہے... پھر بائبل مقدس کھولیے Luke 4/18 میں بیان ہوتا ہے کہ ......خداوند نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لیے مسح کیا ہے میں آیا ہوں قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سنا سکوں اور جو مظلوم/کچلے ہوئے ہیں انہیں آزاد کرا سکوں.() اندھوں کو بینائی دلانے کا مطلب یہ ہے کہ ظلم کو برداشت کرنے والے پنڈتوں اور مذہبی اجارہ داروں کے ہاتھوں استحصال کو اپنی قسمت جان کے قبول کرنے والوں کو جگا سکوں. اور نظام ظلم کا خاتمہ کر سکوں.. ان تمام باتوں سے ایک بات سمجھ آتی ہے کہ ان تمام الہامی کہلائی جانے والی کتابوں کی توجہ ایک ہی طرف ہے نظام عدل کا قیام کیا جائے قران خود کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن بہتر وہی ہو گا کہ جو انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرے گا.جو بھوک ,افلاس, غربت, فرقہ واریت کا, نفرت کا خاتمہ کرنے والا ہوگا.. تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک کوئی ہے جو اپنے بندوں کو نظام عدل کے قیام کی طرف مائل کرنے کے لیے اتنی کتابوں کا تسلسل بناتا ہے یعنی کائنات محض مادہ کی حرکت کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئی.بلکہ اسکا پیدا کرنے والا اور اصول زندگی دینے والی کوئی ذات تو ہے نا.اب جب تاریخ یہاں سے آگے سفر شروع کرتی ہے تو کہیں راستے میں فرانس بھوک/افلاس, تنگدستی ,ظلم اور جبر کو مٹانے کے لیے انقلاب برپا کیے ہوئے ہے, کہیں روسو اور کہیں منٹو کہیں سبط حسن,و مارکس, کہیں عبیداللہ سندھی, کہیں ہیگل کہیں اینگلز کہیں فیض و جالب غربت مکاو درد بھگاو زمین آزاد کراو کے نعرے لگاتے رہے چیخ چیخ کے دنیا کو سمجھاتے رہے کہ ظلم اور بھوک کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرو انسانیت کو اسکا چھینا ہوا مقام واپس دلاو یہی مقصد انسانیت ہے. لیکن دنیا ان سب سے بیگانہ رہی, مگر تاریخ نےانکو اپنی آغوش میں پھولوں کی طرح سجا لیا. یہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیے اور ناقدین کو تاریخ نے پاتال کی گہرایوں میں پٹخ دیا ظالم اور اس کے پیروکاروں کو تاریخ فراموش کر چکی ہے. آج یہ ذمہ داری ہم پہ عائد ہوتی ہے کہ ہم ابراہیم سے لیکر موسی و عیسی و محمد ص , روسو, ارسطو, ہیگل و اینگل, مارکس و منٹو و سندھی کے مقصد حیات کو اپنا مقصدحیات جان کر اپنی زندگی تیاگ دیں اورتاریخ کے اوراک میں زندہ جاوید ہو جائیں.ہماری جدوجہد کا پھل کم سے کم ہماری اگلی نسل تو کھا سکے, یہی مقصد قدرت ہے تم چاہے لاکھ ڈالر جہاد لڑو یا ابلیس کے ایک آنکھ والے پجاریوں کو شہید کہو یا ان کے جنازے پڑھو جیت پھر بھی حب انسانیت کی ہی ہوگی اور تم فنا ہوجاو گے...آدم کے لیے بنی یہ دنیا ایک بار پھر اس ترقی یافتہ سماج(جنت) کا عملی نمونہ بنائی جائیگی۔ یہی پیپلز مزدور کسان پارٹی کا مقصد اور نظریہ ہے۔

 


Rss_feed